بھٹکل:24؍ستمبر(ایس اؤ نیوز) ہیبلے گرام پنچایت حدود کے ایک سرمایہ دار کی جائیداد کو ای ۔ جائیداد کرنے میں ٹال مٹول کرنے اور غیر ضروری طور پر تاخیر کرنے پر محکمہ ریاستی دیہی ترقیات اور پنچایت راج کے ڈپٹی ڈائرکٹر اور سرکاری سکریٹری نے سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے اُتر کنڑا ضلع پنچایت کو حکم دیا ہے کہ اگر ہیبلے گرام پنچایت صدر اور نائب صدرسمیت ممبران سرکارکی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عمل نہیں کرتے تو اُن کی ممبرشپ کو ہی ختم کردیں اور رپورٹ پیش کریں۔
ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق پنچایت راج کے ڈپٹی ڈائرکٹر ڈی جی نارائن نے اُترکنڑا ضلع پنچایت پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ای ۔ جائیداد کو لےکر سرکاری سرکولر میں پوری وضاحت کے ساتھ ہدایات دی گئی ہیں، اس کے باوجود ضلع پنچایت کی جانب سے ایک معاملے کو لے کر غیر ضروری طور پر سرکار سے وضاحت پوچھ رہے ہیں ، جس کو دیکھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ آفسران معاملے کو طول دے کر مزید وقت برباد کرنا چاہتے ہیں جو بالکل مناسب نہیں ہے۔ ڈپٹی ڈائرکٹر کے مطابق ماتحت پنچایت افسران کے لئے ضروری ہے کہ وہ سرکارکی جانب سے جاری کردہ سرکلر کے مطابق عوام کی مدد کریں اور ان کے کاموں کو انجام دیں۔ انہوں نے سخت متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر متعلقہ کاموں کو انجام نہیں دیاجاتاہے تو کرناٹکا سول سیوا (سی سی اے ) کے مطابق ضلع پنچایت سی ای اؤ کو گرام پنچایت صدر، نائب صدر اور ممبران کے خلاف کارروائی کرنے کا اختیار ہے، لہٰذا کرناٹکا گرام سوراج اور پنچایت راج قانون 1993کے تحت صدر،نائب صدر اور ممبران کے رویہ کو غلط مانتے ہوئے اُن کو نکال باہرکرنے کے متعلق فیصلہ لیں اور ریجنل کمشنر بیلگا م کو اپنی رپورٹ پیش کریں۔
معاملہ کیا ہے : ہیبلے دیہات کے سرمایہ دار مسٹر دامودر موگیر نے سروے نمبر 20-ڈی کی اپنی زمین پر 25برس پہلے پنچایت کی منظوری لے کر آئس فیکٹری تعمیر کی تھی۔ نئے سرکاری حکم نامے کے تحت متعلقہ جائیداد کو ای۔ جائیداد میں منتقل کرنے کے لئے انہوں نے دو سال قبل یعنی دسمبر 2017 کو پنچایت میں عرضی داخل کی، لیکن اتنا عرصہ گذرنے کے باوجود ان کی جائیداد کو ای ۔جائیداد میں منتقل نہیں کرایا گیا۔
بتایا گیا ہے کہ پچھلے دو برسوں سے پنچایت نے اس سلسلے میں جب کوئی کارروائی نہیں کی تو تکالیف کا سامنا کرتےہوئے دامودر موگیر نے اپنے وکیل جے ڈی نائک کے ذریعے پنچایت کو نوٹس بھیج کر وضاحت چاہی۔ پنچایت نے جواب میں بعض وجوہات کی بنا پر ای ۔ جائیداد کی منظوری دینے سے انکار کیا تو دامودر موگیر نے اُترکنڑا ضلع پنچایت کے سی ای اؤ کے سامنے رٹ پیٹیشن داخل کی۔ ضلع پنچایت سی ای اؤ نے اس سلسلے میں سرکار کو رپورٹ سونپتے ہوئے سرکار سے وضاحت طلب کی کہ اس سلسلے میں حکومت کی طرف سے کیا ہدایات ہیں۔ وضاحت طلب کرنے پر ریاستی پنچایت راج ڈپٹی ڈائرکٹر نے اتنے لمبے عرصےتک معاملہ کو نہ نپٹانے پر سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے سوال کیا کہ حکومت کی جانب سے واضح سرکولر جاری ہونے کے باوجود ضلع پنچایت کی طرف سے پھر وضاحت کیوں طلب کی گئی ہے۔